حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 592 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 592

592 ہے ؟ اس نے کہا بکریاں پس اسے زیادہ بچے دینے والی بکری عطا کی گئی سو ان دونوں نے بھی بچے دئے اور اس نے بھی بچے دئے۔فرمایا کہ اس کے لئے اونٹوں کی وادی ہو گئی اور اس کے لئے گائیوں کی وادی اور اس کے لئے بکریوں کی وادی۔فرمایا کہ پھر وہ (فرشتہ) مبروص کے پاس اس کی (پرانی) صورت اور ہیئت میں گیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور سفر میں میرے سب اسباب جاتے رہے۔پس آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا پہنچنا ممکن نہیں۔میں تم سے اس کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے ایک اونٹ مانگتا ہوں جو میرے سفر میں میرا کام بنادے اس نے کہا ذمہ داریاں بہت ہیں۔اس پر اس نے کہا میر الخیال ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں کیا تم مہبر وص نہیں تھے جس سے لوگ کراہت کرتے تھے ؟ (کیا تم ) وہ فقیر ( نہیں تھے) جسے اللہ نے عطا کیا ہے۔اس نے کہا کہ میں تو اس مال کا نسل در نسل وارث ہوں۔اس نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف لوٹادے گا۔فرمایاوہ (فرشتہ) گنجے کے پاس اس کی (پرانی) صورت میں آیا اور اسے بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا اور اس نے وہی جواب دیا جو پہلے نے جواب دیا تھا اس پر اس نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسے تو تھا فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس اس کی شکل وصورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین شخص مسافر ہوں میرے سفر کے سب ذرائع کٹ چکے ہیں۔آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میر ا ( منزل تک پہنچنا نا ممکن ہے۔میں تم سے اس کے واسطہ سے جس نے تمہاری نظر تمہیں لوٹائی ہے ایک بکری مانگتا ہوں جو میرے سفر میں مجھے کفایت کر جائے۔اس پر اس نے کہا کہ میں اندھا تھا اللہ نے مجھے میری نظر لوٹائی۔پس جو تو چاہے لے لے اور جو تو چاہے چھوڑ دے اللہ کی قسم آج کے دن میں تجھ پر اس بارہ میں جو تو نے اللہ کی خاطر لیا میں تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں کروں گا۔اس پر اس نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو۔( تم تینوں کی ) آزمائش کی گئی تھی اللہ تجھ سے راضی ہو گیا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔