حدیقۃ الصالحین — Page 591
591 وَأَنَّى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينَ وَابْنُ سَبِيلٍ، انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ، شَاةٌ أَتَبَلَّغْ بِهَا فِي سَفَرِي، فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ إِلَى بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ ، فَقَالَ أَمْسِكَ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب الدنيا سجن المومن وجنة الكافر (5251) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے ایک مبروص تھا ایک گنجا اور ایک نابینا۔اللہ نے ارادہ کیا کہ ان کی آزمائش کرے۔اس نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا وہ مبروص کے پاس آیا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز سب سے زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا کہ خوبصورت رنگ ، خوبصورت جلد اور یہ مجھ سے دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے کراہت کرتے ہیں۔فرمایا اس (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کی گئی۔اس (فرشتہ) نے کہا کہ کو نسا مال تجھے پسند ہے ؟ اس نے کہا اونٹ یا کہا گائے۔راوی اسحاق کو اس بارہ میں شک ہے کہ مبروص یا گنجے میں سے کسی ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے۔فرمایا اسے دس ماہ کی گا بھن اونٹنی دی گئی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے۔فرمایا پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا تجھے سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے ؟ اس نے کہا خوبصورت بال اور یہ مجھ سے دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو مجھ سے کراہت آتی ہے۔فرمایا اس (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس سے وہ ( بیماری) جاتی رہی اور اسے خوبصورت بال عطا کئے گئے۔اس (فرشتہ) نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے ؟ اس نے کہا گائیاں۔چنانچہ اسے حاملہ گائے دی گئی اور کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے۔فرمایادہ نابینا کے پاس آیا اور کہا کہ تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے ؟ اس نے کہا یہ کہ اللہ مجھے میری نظر لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔فرمایا پھر اس نے اس پر ہاتھ پھیر اتو اللہ نے اسے اس کی نظر لوٹادی۔اس نے پوچھا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند