حدیقۃ الصالحین — Page 589
589 والے کے پاس گائے بیلوں کا گلہ اور اندھے کے پاس بکریوں کے دل کے دل ہو گئے۔پھر وہ فرشتہ کوڑھی کے پاس ہو بہو اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: ایک مسکین آدمی ہوں میرے سفر میں سارے وسیلے کٹ گئے ہیں، اس لئے سوائے اللہ کے اور پھر تمہارے بن آج میں اپنے ٹھکانے نہیں پہنچ سکتا۔میں تم کو اسی ذات کا واسطہ دیتے ہوئے جس نے کہ تم کو یہ اچھا رنگ دیا اور یہ اچھا بدن دیا اور یہ اونٹ دیئے تم سے ایک اونٹ مانگتا ہوں تا کہ میں اپنے سفر میں اس پر سوار ہو کر اپنے ٹھکانے پہنچوں۔اس نے جواب دیا: حق بہت سے ہیں (جنہیں میں نے ادا کرنا ہے۔) وہ فرشتہ اسے کہنے لگا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔کیا تو کوڑھی نہ تھا؟ لوگ تجھ سے کراہت کرتے تھے ، محتاج تھا۔اللہ نے تجھے دیا۔اس نے کہا میں تو خود بڑا ہوں اور بڑوں سے وراثت ملتی چلی آئی ہے۔فرشتہ نے کہا تم جھوٹے ہو۔اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے اور وہ گنجے کے پاس اسی کی شکل وصورت میں آیا اور اس کو بھی ویسا ہی کہا (جیسا اس کو ڑھی سے کہا تھا) اس نے بھی اس کو وہی جواب دیا جو اس کوڑھی نے اس کو دیا تھا۔فرشتہ نے کہا تم جھوٹے ہو۔اللہ تمہیں اسی حالت میں لوٹا دے جس میں تم تھے پھر وہ اندھے کے پاس اسی صورت شکل میں آیا اور کہنے لگا: میں ایک مسکین شخص ہوں، مسافر ہوں۔سفر میں میرے سارے وسیلے کٹ گئے ہیں۔آج سوائے اللہ کے اور تمہارے بغیر ٹھکانے پہنچنے کی کوئی صورت نہیں۔میں اسی کے وسیلے سے جس نے تمہاری بینائی تم کو واپس دی ایک بکری مانگتا ہوں تاکہ میں اپنے سفر میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں۔اس نے کہا ہاں میں اندھا تھا اور اللہ نے میری بینائی لوٹا دی اور محتاج تھا اور اس نے مجھے مالدار کر دیا، اس لیے جو تم چاہو لے لو، اللہ کی قسم! میں تم سے آج کسی بات میں تنگی نہیں کرنے کا۔جو تو لے لے، اللہ کے لئے لے گا۔فرشتہ نے یہ سن کر کہا تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو کیونکہ تم کو تو صرف آزمایا گیا ہے۔اللہ تم سے خوش ہو گیا ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں پر ناراض۔