حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 572 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 572

572 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ ، كَادَ يَقْتُلُهُ العَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حديث الغار 3467) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علیم نے فرمایا ایک بار ایک کتا ایک کنوئیں پر گھوم رہا تھا۔قریب تھا کہ پیاس اس کو مار ڈالے۔اتنے میں بنی اسرائیل کی کنچنیوں میں سے ایک کنچنی نے اسے دیکھ لیا۔اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس کتے کو پانی پلایا۔اس سبب سے اس کو بخش دیا گیا۔729ـ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَأَسَرَّ إِلَى حَدِيثًا لَا أُحَدِثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفًا، أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ، قَالَ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَكَتَ، فَقَالَ مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ؟ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ أَفَلَا تَتَّقِى اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَكَكَ اللَّهُ إيَّاهَا ، فَإِنَّهُ شَكَا إِلَى أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْيَبهُ ؟ (ابوداؤد کتاب الجهاد باب ما يومر به من القيام على الدواب و البهائم 2549) الله حضرت عبد اللہ بن جعفر" بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی علیم نے مجھے (سواری پر ) اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے ایک راز کی بات بتائی، میں لوگوں میں سے کسی کو نہ بتاؤں۔اور رسول اللہ صلی ای کم کو قضائے حاجت کیلئے پر دے کیلئے دو جگہیں بہت پسند تھیں کوئی اونچی جگہ یا درختوں کا جھنڈ کہتے ہیں رسول اللہ صلیا کی ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ تھا اس نے جب نبی صلی علی کم کو دیکھا تو اس نے رونے کی آواز نکالی اور اس کی