حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 571 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 571

571 ے۔وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! فرمائیے اگر میں ایسا کوئی کام (بھی) نہ کر سکوں۔آپ نے فرمایا اپنے نشر کو لوگوں سے روکے رکھ۔یہی تیری طرف سے تیرے نفس کے لئے صدقہ ہے۔728 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ العَطشُ، فَوَجَدَ بِثْرًا فَنَزَلَ فِيهَا، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَتُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الكَلْبَ مِنَ العَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ بي، فَنَزَلَ البِئْرَ فَمَلاَ خُفَهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، فَسَقَى الكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا فِي البَهَائِمِ أَجْرًا ؟ فَقَالَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرُ (بخاری کتاب الادب باب رحمة الناس و البهائم 6009) حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ایک آدمی راستے پر جارہا تھا۔اسے سخت پیاس لگی۔وہ ایک کو میں پر گیا اور اس میں اتر کر پانی پیا۔جب وہ نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا با نپ رہا ہے اور گیلی مٹی پیاس کے مارے چاٹ رہا ہے اس نے دل میں کہا کہ پیاس کی وجہ سے اس کتے کو بھی اتنی ہی تکلیف پہنچی ہے جتنی تکلیف مجھے پہنچی تھی یہ سوچ کر وہ دوبارہ کو ئیں میں اترا۔پانی سے اپنا موزا بھرا اور اس کو اپنے منہ میں پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا چارپایوں پر رحم کرنے سے بھی ہمیں ثواب ملے گا۔آپ صلی یکم نے فرمایا ہر زندہ جان پر رحم کرنے میں ثواب ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایک پیاسا کتا کنویں کا چکر لگارہا تھا اور پیاس سے مرا جار ہا تھا کہ بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے دیکھ لیا۔اس نے اپنا جوتا اتارا اور اس سے پانی بھر کر کتے کو پلایا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کی وجہ سے اسے بخش دیا۔