حدیقۃ الصالحین — Page 570
570 بڑھے۔اب کبھی میری عمر نہیں بڑھے گی۔یا اس نے کہا میر ازمانہ۔اس پر حضرت ام سلیم جلدی سے اپنی اوڑھنی اوڑھتے ہوئے باہر آئیں اور رسول اللہ صلی یکم سے جاملیں۔رسول اللہ صلی الیکم نے ان سے پوچھا اے ام سلیم ! کیا بات ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی علی نیم ! کیا آپ نے میری یتیم بچی کے خلاف دعا کی ہے ؟ آپ نے فرمایا ام سلیم ہوا کیا ہے ؟ وہ کہنے لگیں اس کا خیال ہے کہ آپ نے اسے دعادی ہے کہ نہ اس کی عمر بڑھے اور نہ مة الله سة اس کا زمانہ بڑھے۔راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہ صلی علی یکم مسکرائے پھر فرمایا اے ام سلیم ؟! کیا تجھے میرے رب سے میری شرط کا پتہ نہیں جو میں نے اپنے رب سے کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو ایک بشر ہوں اور ایک بشر کی طرح خوش ہو تا ہوں اور ایک بشر کی طرح ناراض ( بھی ) ہوتا ہوں۔پس جس کسی کے خلاف میں اپنی امت میں سے اس کے خلاف دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو ( اللہ ) اسے قیامت کے دن اس کے لئے طہارت، پاکیزگی اور اپنے قرب کا موجب بنادے جو اسے قیامت کے دن اس کے قریب کرے۔727- عن أبي ذَرٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ ، أَى الْأَعْمَالِ أَفضَلُ؟ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللهِ وَالْجِهَادُ في سَبِيلِهِ قَالَ قُلْتُ أَى القَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَنْفَسُهَا عِندَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا فَمَنًا قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ؟ قَالَ تَكْفُ شَتَرَكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ (مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الایمان بالله تعالى افضل الاعمال (111) حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کو نسی گردن آزاد کرناسب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اپنے مالک کے نزدیک سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اگر میں ایسانہ کر پاؤں ؟ آپ نے فرمایا پھر کسی کاریگر کی مدد کر دے یا کسی سادہ لوح ( بے ہنر ، اناڑی ) کو کچھ بنا کر