حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 569 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 569

569 ย حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی للی یکم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں میں سب سے بد ترین گھر وہ ہے جس میں یتیم ہے اور اس کے ساتھ بُر اسلوک کیا جاتا ہے۔726- حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أَمْ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ، فَقَالَ أَنْتِ هِيَهُ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أَمْ سُلَيْمٍ تَبْلَى، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا يَكْبَرَ سِي، فَالآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةٌ تَلُوتُ خِمَارَهَا ، حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِتهَا، وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا، قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبْ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ، مِنْ أُمَّتِي، بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلِ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً يُقَرِبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الله و (مسلم کتاب البر والصلة باب من لعنه النبى عالم او سبه او دعا عليه۔۔۔4698) ย حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ (حضرت ام سلیم) حضرت انس کی والدہ ہیں۔رسول اللہ صلی علی کرم نے اس یتیم بچی کو دیکھا تو فرمایا تم وہی ہو ، بہت بڑی ہو گئی ہو ، اب تمہاری عمر نہ بڑھے۔تب وہ یتیم بچی روتے ہوئے حضرت ام سلیم کے پاس آگئی تو حضرت ام سلیم نے پوچھا اے میری پیاری بیٹی تجھے کیا ہوا ہے ؟ (اس) لڑکی نے کہا اللہ کے نبی صلی یہ تم نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میری عمر نہ