حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 562 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 562

562 712ـ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَشْرِيقِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْل لِعَرَبِي عَلَى عَجَمِي، وَلَا لِعَجَمِي عَلَى عَرَبِ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرٌ، إِلَّا بالقهوى أبلغتُ ، قَالُوا: بَلَغَ رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ قَالَ أَى يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: يَوْمُ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قَالُوا: شَهْرُ حَرَامٌ ، قَالَ ثُمَّ قَالَ : أَى بَلَدٍ هَذَا؟ قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ فَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ۔قَالَ وَلَا أَدْرِى قَالَ أَوْ أَعْرَاضَكُمْ، أَمْ لا۔كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَلَغْتُ قَالُوا: بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ لِيُبَلِّعْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ (مسند احمد بن حنبل من مسند الانصار (23885) ابو نضرہ بیان کرتے ہیں مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضور کا وہ خطبہ حجتہ الوداع سنا جو آپ صلی ہیں ہم نے ایام منی میں دیا تھا۔کہ آپ صلی علیہم نے اپنے اس خطبہ میں فرمایا اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے۔تمہارا باپ ایک ہے یادر کھو کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سرخ و سفید رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور کسی سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ و سفید رنگ والے پر کسی طرح کی کوئی فضیلت نہیں۔ہاں تقویٰ اور صلاحیت وجہ ترجیح اور فضیلت ہے۔کیا میں نے یہ اہم پیغام پہنچا دیا لوگوں نے (بلند آواز سے ) عرض کیا ہاں اللہ کے رسول نے یہ پیغام حق اچھی طرح پہنچا دیا۔پھر آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا (ایام حج کا) بڑا محترم دن ہے۔پھر آپ صلی علیم نے پوچھا یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ (ذوالحجہ کا) بڑا محترم مہینہ ہے۔پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا۔یہ (مکہ کا ) بڑا محترم شہر ہے۔اس پر آپ صلی اللہ یکم نے فرمایا تمہاری جانیں تمہارے اموال ( راوی کو یاد نہیں کہ آپ صلی ایم نے آبرو کا ذکر بھی فرمایا یا نہیں) اسی طرح قابل عزت اور حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرمت والے ہیں (یعنی جس طرح ان کی بے حرمتی کا تم خیال بھی نہیں کر سکتے اسی طرح لوگوں کی جانوں اور ان کے مالوں اور ان کی آبرووں کی بے حرمتی بھی