حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 561 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 561

561 بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، فَلَا تَرْجِعُنَ بَعْدِى كُفَارًا - أَوْ ضُلالا - يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ و مَنْ يُبَلِّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ (مسلم کتاب القسامة و المحاربين باب تغلیظ تحريم الدماء و الاعراض والاموال 3165) حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے نبی صلی الی یکم نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اس شکل پر ( جس شکل پر وہ تھا) چکر کھا کر آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا سال بارہ مہینے (کا) ہے۔ان میں سے چار حرمت والے ہیں تین تو متواتر ہیں ذو القعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور رجب مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی یم بہتر جانتے ہیں۔راوی کہتے ہیں آپ خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔پھر آپ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا یہ کونسا علاقہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ ہم بہتر جانتے ہیں۔راوی کہتے ہیں آپ خاموش رہے اور ہم نے خیال کیا کہ آپ اس کو کوئی اور نام دیں گے۔آپ نے فرمایا کیا یہ وہ حرمت والا) علاقہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا اور یہ کونسا دن ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی میں کم بہتر جانتے ہیں۔راوی کہتے ہیں آپ خاموش ہو گئے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا یقینا تمہارے خون اور تمہارے مال راوی محمد کہتے ہیں میر اخیال ہے کہ آپ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں۔تمہارے لئے قابل احترام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح، تمہارے اِس علاقہ میں، تمہارے اس مہینہ میں اور جلد تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارہ میں پوچھے گا۔پس میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا یا گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں۔سنو! چاہئے کہ ( یہ پیغام) حاضر غائب کو پہنچا دے۔ہو سکتا ہے کہ جن کو یہ ( پیغام پہنچایا جائے وہ اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہو جس نے اس کو (خود) سنا ہے۔پھر آپ نے فرمایا سنو ! کیا میں نے پہنچا دیا !!