حدیقۃ الصالحین — Page 550
550 حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یارسول اللہ مجھے کوئی وصیت کیجئے۔آپ صلی علیہ یم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تمام بھلائیوں کی یہ بنیاد ہے۔اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو۔کیونکہ یہ مسلمان کی رہبانیت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو کیونکہ یہ تیرے لئے نور ہے۔703 - حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى القفر، وتأمل الفتى، ولا تمهل حَتَّى إذا بَلَغَتِ الحلقوم ، قُلْتَ لِفُلانٍ كَذَا، وَلِفُلانٍ كَذا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ بخارى كتاب الزكاة باب اى الصدقة افضل وصدقة الشحيح الصحيح (1419) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی صلی المی ٹیم کے پاس آیا۔اس نے کہا یار سول اللہ !اثواب میں کونسا صدقہ بڑھ کر ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو صدقہ کرے جب تو تندرست ہو۔مال حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہو اور بخیل ہو۔محتاجی سے ڈرے اور مال دار ہونے کی امید رکھتا ہو اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آپہنچے اور تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا۔فلاں کو اتنا دینا۔حالانکہ فلاں کا تو ہو ہی چکا ہے۔704ـ عَنْ أَبِي ذَرْ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّلُورِ بِالْأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَضَلَّقُونَ ؟ إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهى عَنْ مُنكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قَالُوا