حدیقۃ الصالحین — Page 546
546 تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُ البَيْتَ، ثُمَّ قَالَ أَلا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ قَالَ ثُمَّ تَلاَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ، حَتَّى بَلَغَ يَعْمَلُونَ ، ثُمَّ قَالَ أَلا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ كُلِهِ وَعَمُودِهِ، وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ ؟ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلامُ ، وَعَمُودُهُ الصَّلاَةُ، وَذِرْوَةٌ سَنَامِهِ الْجِهَادُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَلاكِ ذَلِكَ كُلِهِ ؟ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ قَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ ؟ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَادَ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ۔(ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء في حرمة الصلاة 2616) الله حضرت معاذ بن جبل نے بیان کیا کہ میں نبی صلی الی ایم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ایک دن دوران سفر میں آپ کے قریب ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے دور رکھے۔آپ صلی للی یکم نے فرمایا تم نے ایک بہت بڑی اور مشکل بات پوچھی ہے لیکن اگر اللہ تعالی توفیق دے تو یہ آسان بھی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ ، باقاعدگی سے زکوۃ ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ ، اگر زاد راہ ہو تو بیت اللہ کا حج کر۔پھر آپ صلی لی ہم نے یہ فرمایا کیا میں بھلائی اور نیکی کے دروازوں کے متعلق تجھے نہ بتاؤں؟ سنو اروزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے صدقہ گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔پھر آپ صلی علیم نے یہ آیت پڑھی: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ۔۔۔۔الخ۔پھر آپ صلی الم نے فرمایا کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا۔جی ہاں یارسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ صلی للی یکم نے فرمایا دین کی جڑ اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔پھر آپ صلی الم نے فرمایا کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔