حدیقۃ الصالحین — Page 547
547 یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ صلی علیکم نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک کر رکھو۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی علیکم ! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس کا بھی ہم سے مواخذہ ہو گا۔آپ صلی الم نے فرمایا تیرا بھلا ہو ، لوگ اپنی زبانوں کی کائی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے برے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔699 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ، نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الجَنَّةِ : يَا عَبْدَ اللهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجَهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رضي الله عنه: بأبي أنت وأخى يَا رَسُولَ اللهِ مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِهَا، قَالَ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ (بخاری کتاب الصوم باب الريان للصائمين 1897) رض حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں جو ڑا خرچ کیا، جنت کے دروازوں سے اُسے آواز دی جائے گی۔اے اللہ کے بندے ! یہ ( دروازہ) اچھا ہے۔سو جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہو گا، وہ نماز کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔جو جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا، وہ جہاد کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔جو روزہ داروں میں سے ہو گا، اُسے ریان دروازہ سے بلایا جائے گا۔جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا، اُسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جو ان دروازوں میں سے بلایا گیا تو اُسے کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔کیا کوئی ایسا بھی ہے جسے ان سب دروازوں میں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔