حدیقۃ الصالحین — Page 533
533 مسلمہ نے انکار کر دیا۔حضرت عمر نے فرمایا جب تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے اور کوئی نقصان نہیں تو تم اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ محمد بن مسلمہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور کہا خدا کی قسم ! میں ان کو ہر گز اجازت نہیں دوں گا۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا یہ نالی تمہارے پیٹ پر سے بھی گزارنی پڑے تو بھی گزرے گی (یعنی تم وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ کے مصداق بننا چاہتے ہو) چنانچہ ضحاک نے (حضرت عمرؓ کے حکم سے یہ نالی بنالی۔677 - عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سن القتل أولا بخاری کتاب الاعتصام باب اثم من دعا الى الضلالة او سن سنة السيئة 7321) حضرت عبد اللہ (ابن مسعود) بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ظلماً یا نا حق قتل کیا جاتا ہے۔اس کے قاتل کے گناہ میں سے کچھ حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے لڑکے کو بھی ملتا ہے۔اس وجہ سے کہ سب سے پہلے اس نے ہی قتل کرنے کا طریقہ رائج کیا تھا۔678ـ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لِأَنْصَرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةً، فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا التَقَى المُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالقَاتِلُ وَالمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا القَاتِلُ، فَمَا بَالُ المَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ (بخاری کتاب الديات باب قول الله تعالى و من احياها (المائدة (33) 6875)