حدیقۃ الصالحین — Page 532
532 ابوملیکہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک مقدمہ کے سلسلہ میں میرے استفسار کرنے پر) حضرت ابن عباس نے لکھا کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا اگر صرف دعویٰ کی بنیاد پر فیصلے ہوں تو لوگ دعوی کر کے لوگوں کے اموال کھا جائیں اور ان کی جانیں لے لیں (ایسا نہیں ہو سکتا) اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ ثبوت اور بینہ پیش کرنا مدعی کی ذمہ داری ہے اور (اگر مدعی کے پاس ثبوت نہ ہو تو ) منکر (یعنی مدعی علیہ ) پر قسم آئے گی (اگر وہ قسم کھا جائے تو مقدمہ خارج ہو جائے گا)۔676 - حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِي، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ الضَّحَاكَ بْن خَلِيفَةً سَاقَ خَلِيجًا لَهُ مِنَ الْعُرَيْضِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بِهِ فِي أَرْضِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ الضَّخَاكُ: لِمَ تَمَنْعُنِي، وَهُوَ لَكَ مَنْفَعَةٌ تَشْرَبُ بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَلَا يَضُرُّكَ، فَأَبَى مُحَمَّدٌ، فَكَلَّمَ فِيهِ الضَّحَّاتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ مُحَمَّد بْن مَسْلَمَةَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُخَتِيَ سَبِيلَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَا ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ تَمَنْعُ أَخَاكَ مَا يَنْفَعُهُ، وَهُوَ لَكَ نَافِعٌ، تَسْقِي بِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَهُوَ لَا يَضُرُّكَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا وَاللهِ۔فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَيَمُرَّنَ بِهِ، وَلَوْ عَلَى بَطْنِكَ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَمُرَّ بِهِ، فَفَعَلَ الضَّحَّاكُ (موطا امام مالک ، کتاب الاقضیه ، با القضاء في المرفق (1463) حضرت امام مالک بیٹی مازنی کی روایت سے بیان کرتے ہیں کہ ضحاک بن خلیفہ نے مدینہ کی ایک وادی سے پانی کی ایک نالی نکالنی چاہی تا کہ اپنے کھیت سیراب کر سکے۔یہ نالی محمد بن مسلمہ کی زمین میں سے گزرنی تھی۔محمد بن مسلمہ نے اس کی اجازت نہ دی۔ضحاک نے ان سے کہا تم کیوں روکتے ہو تمہارا بھی اس میں فائدہ ہے۔پہلے تم اپنی زمین کو پانی دے سکو گے اور آخر میں بھی یہ فائدہ حاصل کر سکتے ہو اور تمہارا کوئی نقصان بھی نہیں لیکن محمد نے کہا بس میری مرضی، میں اجازت نہیں دیتا۔ضحاک نے حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب کی خدمت میں اس مشکل کا ذکر کیا۔آپ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا کہ وہ ضحاک کی بات مان لیں لیکن محمد بن