حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 526 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 526

526 669 عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْرُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِهُ عَلَيْهِ إِلَّا أَسَامَةُ، حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أَسَامَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍ مِنْ حُدُودِ اللهِ ؟ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمِ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِهِ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا (مسلم کتاب الحدود باب قطع السارق الشريف وغيره۔۔۔3182) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ سے فکر پید اہوئی جس نے چوری کی تھی۔انہوں نے کہا اس کے بارہ میں کون رسول اللہ صلی الی سے بات کرے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی رسول اللہ صلی علیم کے محبوب اُسامہ کے سوا کون جرآت کر سکتا ہے۔چنانچہ آپ سے اُسامہ نے بات کی۔رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارہ میں سفارش کرتے ہو ؟ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ” اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب اُن میں کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اُس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد صلی علیکم بھی چوری کرتی تو میں ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتا“۔670 - عَن عبد اللوبي عمر و قَالَ: لَعَن رَسُولُ الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّافِي وَالمَرْتَقِى (ترمذی کتاب الاحکام باب ما جاء فى الراشي والمرتشي في الحكم (1337) حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔