حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 40 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 40

40 نظر کے بجائے آپ کی نظر زمین پر زیادہ پڑتی۔اکثر آپ کی نظریں نیم وا ہو تیں۔اکثر آپ کی نظر (ایک لمحہ میں ملاحظہ کر لیتی تھی۔اپنے صحابہ ( کا خیال رکھنے کے لئے ان کے پیچھے چلتے۔ہر ملنے والے کو سلام کرنے میں پہل کرتے۔23- عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَليْ قَالَ سَأَلْتُ خَالِي هِنْدُ بْنُ أَبِي هَالَةٌ، وَكَانَ وَضَافًا، فَقُلْتُ صِفٌ لِي مَنْطِقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاصِلَ الْأَحْزَانِ دائم الْفِكْرَةِ لَيْسَتْ لَهُ رَاحَةُ طويل الشكت لا يَتَكَلَّمُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ، يَفْتَتِحُ الْكَلَامَ وَيَخْتِمُهُ بِاسْمِ اللهِ تَعَالَى، وَيَتَكَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، كَلَامُهُ فَضْلُ، لَا فُضُولَ وَلَا تَقْصِيرَ، لَيْسَ بِالْجَافِي وَلَا الْمُهِينِ، يُعَظِمُ النَّعْمَةَ، وَإِنْ دَقَتْ لَا يَذُهُ مِنْهَا شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُن يَذُهُ ذَوَاقَا وَلَا يَمَدَحُهُ، وَلَا تُغْضِبُهُ الدُّنْيَا، وَلَا مَا كَانَ لَهَا، فَإِذَا تُعْذِيَ الْحَقُّ لَمْ يَقُمْ لِغَضَبِهِ شَيْءٍ حَتَّى يَنْتَصِرَ لَهُ، وَلَا يَغْضَبْ لِنَفْسِهِ، وَلَا يَنْتَصِرُ لَهَا، إِذَا أَشَارَ أَشَارَ بِكَفِهِ كُلِهَا، وَإِذَا تَعَجَبَ قَلَبَهَا، وَإِذَا تَحَدَّثَ اتَّصَلَ بِهَا ، وَضَرَبَ بِرَاحَتِهِ الْيُمْنَى بَطْنَ إِبْيَامِهِ الْيُسْرَى، وَإِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ، وَإِذَا فَرِحَ غَضَّ طَرْفَهُ، وكان الْجُدُرُ تلاحكَ وَجْهَهُ) جُلُ ضَحِكِهِ التَّبَسُّمُ، يَفْتَرُّ عَنْ مِثْلِ حَبِ الْغَمَامِ (شمائل النبي باب كيف كان كلام رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم 217) حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ھالہ سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی علیکم انداز گفتگو کے متعلق بتائیں اور وہ حضور کے اوصاف بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے۔انہوں نے بتایا رسول اللہ صلی علیم پر مسلسل غم آتے اور آپ کسی مسلسل اور گہری سوچ میں رہتے۔آپ کو آرام کا موقع کم ہی ملتا تھا۔اکثر خاموش رہتے۔بغیر ضرورت کے بات نہ کرتے۔آپ اللہ کے نام سے کلام شروع کرتے اور ( اللہ کے نام پر ہی ) اختتام فرماتے۔آپ ایسا کلام فرماتے جو وسیع مطالب و معانی پر مشتمل ہوتا۔آپ کے کلام کے الفاظ علیحدہ