حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 522 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 522

522 حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ﷺ نے فرمایا امام کی اطاعت اور فرمانبر داری ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے خواہ وہ امر اس کے لئے پسندیدہ ہو یا نا پسندیدہ۔جب تک وہ امر معصیت نہ ہو لیکن جب امام (کھلی) معصیت کا حکم دے تو اس وقت اس کی اطاعت اور فرمانبر داری نہ کی جائے۔664- عَنْ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَجَ نَارًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَفْتَحِمُوا فِيهَا، فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالُوا إِنَّمَا فَرَدْنَا مِنَ النَّارِ، وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ دَخَلُوهَا۔أَوْ دَخَلُوا فِيهَا۔لَمْ يَزَالُوا فِيهَا۔وَقَالَ لَا طَاعَةً فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ (ابو داؤد کتاب الجهاد باب في الطاعة (2625) حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنا دیا اور لوگوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا کہ اس کی سنیں اور اطاعت کریں۔پس اس نے آگ جلائی اور ان کو کہا اس میں داخل ہو جاؤ۔پس کچھ لوگوں نے اس کی یہ بات ماننے سے انکار کیا اور کہا ہم تو آگ سے بھاگ کر آئے ہیں اور بعض لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس میں داخل ہو جائیں۔یہ خبر رسول اللہ صلی الی یم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو وہ اسی میں رہتے۔پھر آپ نے فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔665- عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رأى من أميره شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَضين، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً (بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعة لامام مالم تكن معصية 7143)