حدیقۃ الصالحین — Page 506
506 فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِئِينَ ، تَمَتَكُوا بِهَا وَعَضُوا عَلَيْهَا بِالتَّوَاجِنِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَقَاتِ الْأُمُورِ، فَإِن كُلِّ مُحْدَقَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلِّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (ابو داؤد كتاب السنة باب في لزوم السنة 4607) عبد الرحمن بن عمر و سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ کے پاس آئے، وہ ان میں سے تھے جن کے بارے میں نازل ہوا وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ (التوبہ:93) ( اور نہ ان لو گوں پر کوئی حرف ہے کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تا کہ تو انہیں (جہاد کے لئے ساتھ ) کسی سواری پر بٹھالے تو تو انہیں جواب دیتا ہے میں تو کچھ نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کر سکوں) تو ہم نے سلام کیا اور ہم نے کہا ہم آپ کے پاس آئے ہیں زیارت کرتے ہوئے، عیادت کرتے ہوئے اور علم حاصل کرتے ہوئے۔اس پر حضرت عرباض نے کہا ایک دن رسول اللہ صلی علیکم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں بہت مؤثر وعظ فرمایا جس سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور جس سے دل ڈر گئے۔پھر ایک کہنے والے نے عرض کیا یارسول اللہ امیہ کو یا کسی الوداع کرنے والے کا وعظ ہے ، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ یکم نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا تقوی ( اختیار کرنے) اور سننے اور اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگر چہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا تو وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔تم میری سنت اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت پانے والے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑے رہنا اور اس کو خوب مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور نئے نئے امور سے اجتناب کرنا۔یقینا ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔639۔عَنْ نَافِعٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ، زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ۔۔۔۔۔سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةٌ (مسلم کتاب الامارة باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن۔۔۔3427)