حدیقۃ الصالحین — Page 505
505 بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا عَضُوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِدِ، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَيْفِ حَيْهما انْقِيدَ انْقَادَ الله و (مسند احمد بن حنبل، مسند الشميين ، حدیث العرباض بن ساريه عن النبي عام 17272) حضرت عبد الرحمن بن عمر و سلمی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار رسول اللہ صلی عوام نے ایک ایسا پر اثر وعظ کیا کہ جس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے دل ڈر گئے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ تو ایسی نصیحت ہے جیسے ایک الوداع کہنے والا وصیت کرتا ہے، ہمیں کوئی ایسی ہدایت فرمائیے کہ ہم صراط مستقیم پر قائم رہیں آپ صلی الی یکم نے فرمایا میں تمہیں ایک روشن اور چمکدار راستے پر چھوڑے جارہا ہوں اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے سوائے بد بخت کے اس سے کوئی بھٹک نہیں سکتا اور تم میں سے جو شخص رہا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا ایسے حالات میں تمہیں میری جانی پہچانی سنت پر چلنا چاہئے اور خلفائے راشدین مہد بین کی سنت پر چلنا چاہئے تم اطاعت کو اپنا شعار بناؤ خواہ حبشی غلام ہی تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے اس دین کو تم مضبوطی سے پکڑو مومن کی مثال تکمیل والے اونٹ کی سی ہے جدھر اسے لے جاؤ وہ ادھر چل پڑتا ہے اور اطاعت کا عادی ہوتا ہے۔حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْن عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ ، قَالا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْن سَارِيَةً، وَهُوَ عَمَّن نَزَلَ فِيهِ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ (التوبة: 92) فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةٌ بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةٌ مُوَذِعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا ؟ فَقَالَ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشُ مِنْكُمْ بَعْدِي