حدیقۃ الصالحین — Page 500
500 اللهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّاكِرِينَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَكَأَنَّا لَمْ نَقْرَأَهَا قَبْلَهَا قَطُ، فَقَالَ النَّاسُ مِثْلَ مَقَالَةِ أَبِي بَكْرٍ مِنْ كَلامِهِ وَقِرَاءَتِهِ وَمَاتَ لَيْلَةَ الْإِثْنَيْنِ، فَمَكَتَ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمَيْنِ، وَدُفِنَ يَوْمَ الثَّلَاثَاءِ، وَكَانَ أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَوْسُ بْنُ خَوْلِيَ يَصُبَّانِ وَعَلَى وَالْفَضْلُ يُغَسِلَانِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، (مسند امام اعظم امام ابی حنیفه) کتاب الفضائل و الشمائل باب بیان فضائل النبی 363) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر نے جب دیکھا کہ رسول اللہ صلی یکم کی طبیعت پہلے کی نسبت کچھ ٹھیک ہے تو آپ نے حضور علیہ السلام سے اپنی بیوی خارجہ کے یہاں جانے کی اجازت طلب کی جو انصار کے احاطہ میں رہتی تھیں حضور نے اجازت دے دی پھر رسول اللہ صلی ال یکم اسی رات فوت ہو گئے صبح لوگ آپس میں مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرنے لگے حضرت ابو بکر نے اپنے غلام کو کہا کہ پتہ کر کے آؤ کہ صورت حال کیا ہے غلام نے آکر بتایا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت محمد صلی علی کرم فوت ہو گئے ہیں ابو بکر پر یہ بات بہت گراں گزری اور کہنے لگے ہائے یہ کیا ہو گیا ابو بکر ا بھی مسجد نبوی نہیں پہنچے تھے اور یہ سمجھا گیا کہ وہ نہیں آئیں گے اس وقت منافقین یہ مشہور کر رہے تھے کہ محمد اگر نبی ہوتے تو فوت نہ ہوتے یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا کہ اگر میں نے کسی شخص کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی نیم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس شخص کا سر تلوار سے اڑا دوں گا لوگ ڈر کی وجہ سے خاموش ہو گئے اور اس قسم کی باتیں کرنے سے رک گئے جب ابو بکر آئے اس وقت نبی صلی علیم پر چادر ڈالی ہوئی تھی ابو بکر نے آپ صلی نام کے چہرہ مبارک پر سے کپڑا اٹھایا اور پیشانی چوم کر سة کہا اللہ تعالیٰ آپ صلی الیکم کو دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا (یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ جسمانی اور روحانی ہر دولحاظ سے آپ صلی علی کرم فوت ہو جائیں دین کے لحاظ سے آپ صلی لی نام ہمیشہ زندہ رہیں گے ) اس کے بعد حجرہ مبارک سے باہر آئے اور لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ جو شخص محمد (صلی لیلی) کی عبادت کیا کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد (صلی ا ) فوت ہو گئے ہیں اور جو شخص محمد علی ایم کے رب کی عبادت کیا کر تا تھا تو وہ سنے کہ محمد صلی للی کم کا