حدیقۃ الصالحین — Page 501
501 رب زندہ ہے وہ کبھی نہیں مرے گا اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( آل عمران 145) یعنی محمد بھی ایک رسول ہیں (وہ بھی فوت ہو سکتے ہیں) جیسے اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں پس اگر یہ رسول ( یعنی محمد ) بھی فوت ہو جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ ابو بکر کی یہ باتیں سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے یہ آیت اس سے قبل پڑھی ہی نہیں تھی (یعنی اس آیت کی طرف پہلے میر ادھیان نہیں گیا تھا ) بہر حال سب لوگوں کی زبان پر حضرت ابو بکر کی یہ تقریر اور آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول۔۔۔۔۔جاری تھی اور وہ زار و قطار رورہے تھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اتوار اور پیر کی درمیانی رات فوت ہوئے جنازہ دورات رکھا رہا اس کے بعد منگل کے پچھلے پہر تدفین عمل میں آئی حضرت علی اور فضل بن عباس نے آپ صلی کمی کو غسل دیا۔اسامہ بن زید اور اوس بن خولہ نے پانی ڈالا۔635 - عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ (مسلم کتاب فضائل الصحابه ، باب من فضائل ابى بكر الصديق 4385) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے اپنی بیماری میں مجھ سے فرمایا کہ ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تا کہ میں ایک تحریر لکھ دوں۔مجھے ڈر ہے کہ کوئی خواہش کرنے والا خواہش کرے یا کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں لیکن اللہ اور مومن تو سوائے ابو بکر کے (کسی اور کا ) انکار کریں گے۔