حدیقۃ الصالحین — Page 497
497 ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر آپ میں سے۔حضرت ابو بکر نے کہا نہیں بلکہ امیر ہم ہیں اور تم وزیر ہو کیونکہ یہ قریش لوگ ( بلحاظ نسب) تمام عربوں سے اعلیٰ ہیں اور بلحاظ حسب وہ قدیمی عرب ہیں۔اس لئے عمر یا ابو عبیدہ کی بیعت کرو۔حضرت عمرؓ نے کہا نہیں، بلکہ ہم تو آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں سے زیادہ پیارے ہیں۔یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کا ہاتھ پکڑا اور اُن سے بیعت کی اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔ایک کہنے والے نے کہا سعد بن عبادہ کو تم نے مار ڈالا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا اللہ نے اسے مارا ہے۔اور عبد اللہ بن سالم نے زبیدی سے نقل کیا کہ عبد الرحمن بن قاسم نے کہا قاسم (بن محمد ) نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹکٹکی بندھ گئی اور آپ نے تین بار فرما یا رفیق اعلیٰ کے ا ساتھ۔اور پھر انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا۔حضرت عائشہ کہتی تھیں : حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے خطبوں میں سے کوئی بھی ایسا خطبہ نہ تھا کہ جس کے ذریعہ سے اللہ نے فائدہ نہ پہنچایا ہو۔حضرت عمرؓ نے بھی لوگوں کو ڈرایا جبکہ ان میں نفاق تھا۔پھر اللہ نے ان کو ان خطبوں کے ذریعہ سے پھر ویسے کا ویسا بنا دیا۔پھر حضرت ابو بکر نے بھی لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلایا اور ان کو وہ سچائی شناخت کرا دی جس پر کہ وہ پہلے تھے اور وہ یہی آیت پڑھتے باہر نکلے تھے اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول۔یقیناً اس سے پہلے رسول فوت ہو چکے ہیں۔۔633 - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ المَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمُ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغَشِّي بِقَوْبِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأَقِى، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا المَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ ، فَقَدْ مُتَهَا قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَعُمَرُ بْن الخطابِ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسُ