حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 496 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 496

496 کھڑے ہوئے، کہنے لگے : اللہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: حضرت عمر کہا کرتے تھے بخدا میرے دل میں یہی بات آئی تھی۔اور انہوں نے کہا اللہ آپ کو ضرور ضرور اُٹھائے گا تا بعض آدمیوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے۔اتنے میں حضرت ابو بکر آگئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ کو بوسہ دیا۔کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ زندگی میں بھی اور موت کے وقت بھی پاک وصاف ہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ آپ کو کبھی دو موتیں نہیں چکھائے گا۔یہ کہہ کر حضرت ابو بکڑ باہر چلے گئے اور کہنے لگے : ارے قسم کھانے والے ٹھہر جا۔جب حضرت ابو بکر بولنے لگے ، حضرت عمر بیٹھ گئے۔حضرت ابو بکر نے حمد وثناء بیان کی اور کہا دیکھو! جو محمد صلی ا یہ ظلم کی عبادت کرتا تھا، سن لے کہ محمد تو یقیناً فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرے گا۔اور حضرت ابو بکڑ نے یہ آیت پڑھی: تم بھی مرنے والے ہو اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔پھر انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی: محمد مصرف ایک رسول ہیں۔آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔تو پھر کیا اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہ پہنچا سکے گا۔اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا۔سلیمان کہتے تھے یہ سن کر لوگ اتنے روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔سلیمان کہتے تھے اور انصار بنی ساعدہ کے گھر حضرت سعد بن عبادہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے : ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ان کے پاس گئے۔حضرت عمرؓ بولنے لگے۔حضرت ابو بکر نے انہیں خاموش کیا۔حضرت عمر کہتے تھے اللہ کی قسم ! میں نے جو بولنا چاہا تو اس لئے کہ میں نے ایسی تقریر تیار کی تھی جو مجھے بہت پسند آتی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ حضرت ابو بکر اس تک نہ پہنچ سکیں گے یعنی ویسا نہ بول سکیں۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر نے تقریر کی اور ایسی تقریر کی جو بلاغت میں تمام لوگوں کی تقریروں سے بڑھ کر تھی۔انہوں نے اپنی تقریر کے اثناء میں کہا ہم امیر ہیں اور تم وزیر ہو۔حباب بن منذر نے یہ سن کر کہا ہر گز نہیں۔اللہ کی قسم! ہر گز نہیں۔بخدا! ہم ایسا نہیں کریں گے۔