حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 491 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 491

491 فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ، قَالَتْ: قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ للَّاحِقُونَ (مسلم کتاب الجنائز باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لاهلها 1607) محمد بن قیس نے ایک دن کہا کیا میں تمہیں اپنے اور اپنی ماں کے بارہ میں حدیث نہ سناؤں۔لوگ سمجھے ان کی مراد اپنی ماں سے ہے جو اُن کی حقیقی والدہ تھیں۔انہوں نے کہا حضرت عائشہ نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی علیم کے بارہ میں بات نہ سناؤں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔راوی کہتے ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا ایک دفعہ اس رات میں جس میں نبی صلی علیکم میرے ہاں تھے۔آپ گھر لوٹے، اپنی چادر رکھ دی اور اپنے جوتے اتارے اور اپنے پاؤں کے قریب رکھ دیئے۔اور اپنے ازار کا ایک پہلو بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے۔اور آپ اتنا وقت ٹھہرے کہ آپ نے خیال فرمایا کہ میں سوگئی ہوں تو آپ نے آہستہ سے اپنی چادر لی۔آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور دروازہ کھولا اور باہر چلے گئے۔پھر اُسے آرام سے بند کر دیا۔میں نے اپنی قمیص سر پر سے پہنی ہیں اور اپنی اوڑھنی لی اور ازار پہنا اور آپ کے پیچھے چل پڑی یہانتک کہ آپ بقیع پہنچ گئے۔آپ کھڑے ہوئے اور لمبا قیام فرمایا پھر آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔پھر آپ واپس مڑے اور میں بھی مڑی۔آپ تیز چلنے لگے ، میں بھی تیز چلنے لگی۔آپ نے رفتار اور تیز کی تو میں نے بھی کر لی۔آپ تیز دوڑنے لگے میں بھی تیز دوڑنے لگی پھر آپ گھر آگئے اور میں آپ سے پہلے اندر داخل ہوئی۔پس میں لیٹی ہی تھی کہ آپ اندر آگئے اور فرمایا اے عائش! تمہیں کیا ہوا؟ تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے ؟ وہ کہتی ہیں میں نے کہا کوئی بات نہیں۔آپؐ نے فرمایا تم ضرور مجھے بتاؤ گی ورنہ لطیف و خبیر (خدا) مجھے بتادے گا۔وہ کہتی ہیں میں نے کہا یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔پھر میں نے آپ کو ساری بات بتادی۔آپ نے فرمایا( اچھا) تو تم وہ سایہ تھیں جسے میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے میرے سینہ پر