حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 470 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 470

470 593 - عَنْ عَائِمَةً، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ أَذْهِبٍ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا (مسلم کتاب السلام باب استحباب رقية المريض 4048) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی لی لیم جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو دعا کرتے اے لوگوں کے رب! تو بیماری کو دور کر دے۔تو اسے شفاء دے کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے۔تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفاء نہیں ہے۔ایسی شفاء دے جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔594 - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمُ ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ (بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبى فمات هل يصلى عليه 1356) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔وہ بیمار ہو گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کے لئے اس کے پاس آئے۔آپ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس سے کہا اسلام قبول کر لو۔اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور وہ اس کے پاس ہی تھا۔تو اس نے اسے کہا ابو القاسم کی بات مانو۔سو اس نے اسلام قبول کیا۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور آپ یہ کہہ رہے تھے اللہ ہی کی حمد ہے جس نے اس کو آگ سے بچالیا ہے۔