حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 469 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 469

469 حضرت ابو ہریر کا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عز و جل فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا لیکن تو نے میری عیادت نہ کی وہ کہے گا اے میرے رب ! میں کس طرح تیری عیادت کرتا جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔اللہ فرمائے گا کیا تجھے علم نہیں تھا کہ میر افلاں بندہ بیمار تھا لیکن تو نے اس کی عیادت نہ کی۔کیا تجھے علم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھاناما لنگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلا یا وہ کہے گا اے میرے رب میں تجھے کس طرح کھلا سکتا ہوں جبکہ تو سب جہانوں کا رب ہے۔وہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں ہندو نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا کیا تو جانتا نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا۔اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پا پیادہ کہے گا اے میرے رب میں مجھے کس طرح پانی پلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔وہ فرمائے گا کہ تجھ سے میرے فلاں بندہ نے پانی مانگا لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلا یا اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو اسے ضرور میرے پاس موجو د پاتا۔592۔عَنْ أُمِ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ أَبْشِرِى يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَيْتَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ (ابو داؤد کتاب الجنائز باب عيادة النساء 3092) حضرت ام علامہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے میری عیادت کی اور میں بیمار تھی۔آپ نے فرمایا اے ام العلاء خوش ہو جاؤ کیونکہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے اللہ اس کی خطائیں دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔