حدیقۃ الصالحین — Page 464
464 الْوَبَاءِ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبحْ عَلَى ظَهْرٍ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاح : أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةً وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ - خِلَافَهُ ـ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلُ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةُ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةٌ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ، قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَكَانَ مُتَغَيَبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ إِنَّ عِنْدِى مِنْ هَذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضِ، فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضِ وَأَنْتُمْ بِهَا، فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ ثُمَّ انْصَرَفَ (مسلم کتاب السلام باب الطاعون و الطيرة والكهانة ونحوها4100) حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف گئے یہانتک کہ سرغ مقام پر پہنچے تو آپ کو لشکروں کے افسران حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور ان کے ساتھی ملے اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔حضرت ابن عباس کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا ابتدائی مہاجرین کو میرے پاس بلاؤ۔میں انہیں بلالا یا۔آپ (حضرت عمرؓ) نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔اس پر انہوں نے مختلف آراء دیں۔ان میں سے بعض نے کہا آپ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہیں اور ہم آپ کا واپس لوٹنا مناسب نہیں کجھتے اور ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا آپ کے ساتھ بہترین لوگ اور رسول اللہ صلی الم کے صحابہ نہیں اور ہم مناسب خیال نہیں کرتے کہ آپ انہیں اس وباء میں لے جائیں۔آپ نے انہیں فرمایا آپ جاسکتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ۔میں انہیں آپ کے پاس بلا لایا۔آپ نے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین مخاطریق اختیار کیا اور ان کی طرح مختلف آراء پیش کیں۔آپ نے فرمایا آپ لوگ جاسکتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا میرے پاس قریش کے بزرگان کو بلاؤ جنہوں نے فتح مکہ کے موقعہ پر ہجرت کی تھی۔میں انہیں بلالا یا۔ان میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔انہوں نے کہا ہماری رائے ہے کہ