حدیقۃ الصالحین — Page 465
465 آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں نہ لے جائیں۔اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ میں صبح ( واپسی کے لئے ) سوار ہوں گا آپ سب لوگ بھی صبح سوار ہو جائیں۔اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اے ابو عبیدہ ! کاش تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا !!۔اور حضرت عمر بالعموم ان (حضرت ابو عبیدہ) سے اختلافِ رائے کو نا پسند فرماتے تھے۔ہاں، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔بتایئے اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور وہ ایک ایسی وادی میں ہوں جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سر سبز و شاداب ہو اور دوسر اخشک اور ویران ہو تو اگر تم سر سبز کنارے پر انہیں چہ اؤ تو اللہ کی تقدیر سے ہی انہیں چراؤ گے اور اگر تم انہیں خشک کنارے پر چراؤ تواللہ کی تقدیر سے انہیں چراؤ گے۔وہ (حضرت ابن عباس) کہتے ہیں حضرت عبد الرحمان بن عوف جو اپنے کسی کام کی وجہ سے موجود نہ تھے آئے اور انہوں نے کہا مجھے اس بات کا علم ہے میں نے رسول اللہ صلی علی یلم کو فرماتے سنا ہے جب تم کسی جگہ اس ( وبا) کا سنو تو اس کی طرف نہ جاؤ اور اگر اس جگہ پھوٹ پڑے جہاں تم ہو تو وہاں سے اس سے بھاگنے کے لئے نہ نکلو۔وہ (حضرت ابن عباس) کہتے ہیں اس پر حضرت عمر نے اللہ کی حمد کی اور واپس لوٹ گئے۔584ـ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ الله۔۔۔۔۔۔۔۔أَنْتَدَاوَى؟ قَالَ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلُ دَاءً ، إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءٌ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ (مسند احمد بن حنبل ، اول مسند الكوفيين ، حدیث اسامہ بن شریک 18647) حضرت اسامہ بن شریک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور پوچھا یار سول اللہ ! ہم علاج معالجہ کر سکتے ہیں ؟ حضور صلی الی یکم نے فرمایا بیمار کا علاج ضرور کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے شکار کھی ہے۔کوئی اس کا علاج جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا ہے۔