حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 446 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 446

446 پکڑا اور ام سلمہ کے گھر لے گئے اور ان سے دریافت کیا۔کوئی کھانے کی چیز ہے ؟ انہوں نے نرید کا پیالہ پیش کیا جس میں شرید اور بوٹیاں کافی تھیں۔ہم اس میں سے کھانے لگے۔میں کبھی ادھر سے اور کبھی ادھر سے کھاتا اور رسول اللہ صلی عوام اپنے سامنے سے کھا رہے تھے۔آپ مصلی معنی تم نے اپنے بائیں ہاتھ سے میر ادایاں ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے عکراش ! کھانا ایک جگہ سے کھاؤ تمام کھانا ایک ہی طرح کا ہے۔پھر ہمارے سامنے ایک طشت لایا گیا جس میں مختلف قسم کے کھجور یا ڈو کے تھے۔میں تو سامنے سے کھانے لگا اور رسول اللہ صلی ال کی اپنی پسند کے مطابق کبھی ادھر سے اور کبھی ادھر سے چن چن کر کھاتے اور فرمایا اے عکراش! اپنی پسند کی چن چن کر کھاؤ کہ مختلف اقسام کی ہیں پھر پانی لایا گیا۔رسول اللہ صلی علیکم نے اپنا ہاتھ دھویا اور اپنا گیلا ہاتھ اپنے چہرے، سر اور بازؤں پر پھیرا اور فرمایا اے عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کا وضوء ہے ( یعنی کھانے کے بعد ہاتھ صاف کر لئے جائیں)۔551۔عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ البَرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ، فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِ (ترمذی کتاب الاطعمة باب ما جاء في كراهية الاكل من وسط الطعام 1805) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی ایم نے فرمایا کھانے کے درمیانی حصہ میں برکت نازل ہوتی ہے اس لئے کنارے یعنی ایک طرف سے کھایا کرو اور درمیان سے کھانے سے اجتناب کرو۔552- عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَا يَأْكُلَنَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَغْرَبَنَ بِهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِهَا (مسلم کتاب الاشربة باب آداب الطعام والشراب و احكامهما (3751) سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا تم میں سے کوئی ہر گز اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے نہ اس سے پئے کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور پیتا ہے۔