حدیقۃ الصالحین — Page 426
426 اللهُ اللَّيْلَةَ، أَوْ عَجِبَ، مِنْ فَعَالِكُمَا فَأَنْزَلَ اللهُ: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ مُ نَفْسِهِ فَأُولَيكَ هُمُ المُفْلِحُونَ (بخاری کتاب مناقب الانصار باب قول الله يؤثرون على انفسهم۔۔۔3798) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے اپنی ازواج کی طرف (کسی کو) بھیجا۔انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا؟ یا فرمایا اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا: میں۔چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا رسول اللہ صلی ایم کے مہمان کی نہایت اچھی خاطر تواضع کرو۔وہ بولی ہمارے پاس کچھ نہیں مگر اتنا ہی کھانا جو میرے بچوں کیلئے مشکل سے کافی ہو۔اس نے کہا اپنے اس کھانے کو تیار کر لو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھانا مانگیں سلا دینا۔چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چراغ کو جلایا اور اپنے بچوں کو سلا دیا۔پھر اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتی ہے۔اس نے اس کو بجھا دیا۔وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویاوہ بھی کھارہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔آپ نے فرمایا آج رات اللہ ہنس پڑا، یا فرمایا تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، اور اللہ نے یہ وحی نازل کی کہ انصار اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگر چہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔534ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَا: الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ وَأَنَا، وَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، قُومُوا، فَقَامُوا مَعَهُ، فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ، قَالَتْ: مَرْحَبًا