حدیقۃ الصالحین — Page 27
27 عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ زَقِلُونِي زَقِلُونِي فَزَقَلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلَّا وَاللهِ مَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةً بْن نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِ خَدِيجَةَ وَكَانَ امْرَأَ تَنَظَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الكتاب العبراتي فيكتب من الإنجيل بالعِبْرَانِيةِ مَا شَاءَ اللهُ أَن يَكْتُبُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قد عمى فَقَالَتْ لَهُ خَديجة يَا ابْنَ عَنِ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَهُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نزل الله عَلَى مُوسَى يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَدَعًا لَيْتَنِي أَكُونَ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَو مُخرجي هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَدْ بِمِثْلٍ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِى وَإِن يُدْرِكْفِي يَوْمُكَ أَنصرك نصرا مُؤذَرًا ثُمَّ لَمْ يَنْهَب وَرَقَهُ أَن تُوفي و (بخاری کتاب بدء الوحي باب كَيْفَ كَانَ بَدءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 3) ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ وحی میں سے سب سے پہلی چیز جور سول اللہ صلی نیلم کو ملی وہ سچی خوا ہیں تھیں۔جو خواب بھی آتی وہ صبح کی طرح روشن اور صحیح نکلتی۔پھر آپ کو خلوت پسند آگئی اور آپ غار حرا میں جا کر عبادت کرتے تھے۔آپ کچھ سلمان اپنے ہمراہ لے جاتے جب ختم ہو جاتا تو دوبارہ گھر آکر کھانے پینے کا سامان لے جاتے۔اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک فرشتہ آیا اور کہا پڑھو۔آپ صلی لمینیوم نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔فرشتے نے آپ کو سختی سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔آپؐ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔فرشتہ نے دوسری مرتبہ دبایا، پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔آپ نے کہا میں نہیں پڑھ سکتا۔تیسری دفعہ فرشتے نے پھر دبایا اور چھوڑ دیا۔اور کہا اپنے اس پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے انسان کو پیدا کیا۔پڑھو در آنحالیکہ تیرا رب عزت والا اور کرم والا ہے۔اس کے بعد رسول الله علی میر کی گھر واپس آئے آپ کا دل لرز رہا تھا۔اپنی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ کے پاس آکر کہا مجھے کمبل