حدیقۃ الصالحین — Page 28
28 رض اوڑھا ہو چنانچہ انہوں نے کمبل اوڑھا دیا۔جب آپ سے یہ گھبراہٹ جاتی رہی تو حضرت خدیجہ کو سارا واقعہ بنایا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ میں اپنے متعلق ڈرتا ہوں۔اس پر حضرت خدیجہ نے کہا کہ خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا۔آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کو اٹھاتے ہیں ، جو خوبیاں معدوم ہو چکی ہیں ان کو کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مہمان نواز ہیں، ضروریات حقہ میں امداد کرتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہ ان کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔یہ حضرت خدیجہ کے چازاد بھائی تھے۔اور زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے۔عبرانی جانتے تھے اور عبرانی اناجیل لکھ پڑھ سکتے تھے وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے بینائی بھی جاتی رہی تھی۔حضرت خدیجہ نے ورقہ سے کہا اپنے بھتیجے کی بات سنو۔چنانچہ ورقہ نے کہا میرے بھتیجے تم نے کیا دیکھا ہے۔رسول اللہ صلی العلیم نے سارا واقعہ بیان فرمایا اس پر ورقہ نے کہا یہ وہی روح القدس ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوا۔کاش، جس وقت تیری قوم تجھے نکالے گی۔اس وقت میں مضبوط جو ان ہو تا یازندہ رہتا تو میں پوری طاقت سے آپ کی مدد کرتا۔اس پر رسول اللہ صلی علی کرم نے حیران ہو کر پوچھا کیا یہ مجھے نکال دیں گے ؟ انہوں نے کہا جس آدمی کو بھی یہ مقام ملا ہے جو آپ کو دیا گیا۔اس سے ضرور دشمنی کی گئی۔اگر مجھے وہ دن دیکھنا نصیب ہوا تو میں پوری مستعدی سے آپ صلی ہی کم کی مددکروں گا، لیکن افسوس کہ ورقہ اس کے بعد جلد ہی فوت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے نام 9- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ الْخَالِقُ الْبَارِى الْمُصَوْرُ الْغَفَّارُ الْقَهَّارُ الْوَهَّابُ الرَّزَّاقُ الْفَتَاحُ الْعَلِيمُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْخَافِضُ الرَّافِعُ