حدیقۃ الصالحین — Page 392
392 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلى ام غزوئہ تبوک یا غزوئہ حسنین سے واپس تشریف لائے اور حضرت عائشہ کے کمرہ کی الماری کے سامنے پردہ پڑا ہو اتھا۔ہوا چلی تو پر دو ہٹا۔وہاں حضرت عائشہ کی کچھ گڑیاں رکھی تھیں۔حضور علیم نے پوچھا اے عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔یہ میری گڑیاں ہیں۔ان گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی تھا جس کے کاغذ کے دو پر تھے۔آپ صلی اللی کرم نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا یہ گھوڑا ہے۔پھر آپ صلی ہیں ہم نے اس کے پروں کی طرف اشارہ کیا اور پو چھا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔یہ اس کے پر ہیں۔حضور صلی این نم نے کچھ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گھوڑا اور پر۔؟ اس پر حضرت عائشہ نے معصومانہ انداز میں جواب دیا۔کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے گھوڑوں کے پر پر کی تھے ؟ حضور صلی ا لم اس پر رکھکھلا کر ہنس پڑے۔467۔عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِي، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ وَ قَالَ ادْخُلُ فَقُلْتُ أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ كُلكَ فَدَخَلْتُ (ابوداؤد کتاب الادب باب ماجاء في المزاح (5000) حضرت عوف بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللی کم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور چمڑے کے ایک چھوٹے سے خیمہ میں تشریف فرما تھے۔میں نے حضور کو سلام عرض کیا۔حضور نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا اندر آجاؤ۔میں نے عرض کیا حضور پورے کا پورا اندر آجاؤں۔حضور نے فرمایا ہاں پورے کے پورے آجاؤ۔اس پر میں خیمہ میں چلا گیا۔