حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 384 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 384

384 حضرت ابوحجر کی جابر بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس سے ہدایت اور مشورہ طلب کرنے کے لئے آتے ہیں (یعنی وہ مرجع عوام ہے) اور جو کچھ وہ کہتا ہے لوگ اس کو قبول کرتے ہیں۔میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔چنانچہ میں آگے بڑھا اور کہا اے اللہ کے رسول ! علیک السلام دو دفعہ آپ نے فرمایا تم نہ کہو۔علیک السلام یہ ”علیک السلام“ کہنا تو مر دوں کا سلام ہے۔بلکہ تم کہو ”السلام علیک“ یعنی سلامتی ہو آپ پر۔جابر کہتے ہیں پھر میں نے عرض کیا۔کیا آپ صلی علی رام اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں اس اللہ کار سول ہوں کہ جب تجھے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور تو اس سے دعا کرتا ہے تو وہ تیری دعا کو سنتا ہے اور اس تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور جب تجھے قحط سالی سے دوچار ہو نا پڑے اور تو اس سے دعا کرے تو وہ تیرے کھیت ہرے بھرے کر دیتا ہے اور جب تو کسی بیابان جنگل میں ہو اور تیری سواری گم ہو جائے اور تو اس سے دعا کرے تو وہ تیری سواری تجھے واپس دلا دیتا ہے۔جابر" کہتے ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔آپ ملی ایم نے فرمایا کسی کو گالی نہ دو۔چنانچہ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی۔نہ کسی آزاد کو اور نہ کسی غلام کو نہ کسی اونٹ کو نہ کسی بکری کو۔اسی طرح آپ صلی علیم نے یہ بھی فرمایا معمولی سی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو، بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بھائی سے بات کرنا بھی نیکی ہے۔اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اونچا باند ھو۔اگر ایسانہ کر سکو تو زیادہ سے زیادہ ٹخنوں تک رکھ سکتے ہو اس سے نیچے لٹکانا ٹھیک نہیں کیونکہ تہبند کازمین پر گھسٹنا تکبر کا انداز ہے اور اللہ تعالی تکبر پسند نہیں کرتا۔اگر کوئی آدمی تجھے گالی دے یا ایسی کمزوری کا طعنہ دے جو تجھ میں ہے تو تو اس کے مقابلے میں اسے ایسے عیب کا طعنہ نہ دے جو تیرے علم کے مطابق اس میں ہے تو اس شخص کی زیادتی کا سارا وبال اسی پر پڑے گا۔(وہی نقصان اٹھائے گا اور تم اللہ تعالیٰ کے حضور سے صبر کا اجر پاؤ گے)۔454- عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ امْسَكُ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعُكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ (ترمذی کتاب الزهد باب ما جاء في حفظ اللسان (2406)