حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 24 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 24

24 5- عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلُهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ هَم بِمَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيْئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلُهَا كَتَبَهَا اللهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ كَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِمَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيْئَةٌ وَاحِدَةً (مسلم کتاب الایمان باب اذام هم العبد بحسنة كتبت و اذا هم بسيئة۔۔۔179) حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیکم نے ان باتوں میں سے جو آپ نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں فرمایا کہ اللہ تعالی نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں پھر ان کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پس جو نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے اللہ اس کو اپنے ہاں پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے پھر کر (بھی) لے تو اسے اللہ عزوجل اپنے ہاں دس سے لے کر سات سو گنا تک لکھ لیتا ہے بلکہ کئی گنازیادہ۔لیکن اگر وہ بدی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اللہ اس کو اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کا ارادہ کرے اور عمل (بھی) کرے تو پھر اللہ اسے صرف ایک بدی لکھ لیتا ہے۔6 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ (بخاری کتاب المغازی باب نزول النبي الا الله الحِجْرَ 4423) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں ہم رسول اللہ صلی ایم کے ساتھ تھے۔آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا یقیناً مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں ، تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی