حدیقۃ الصالحین — Page 25
25 وادی پار کی مگر وہ تمہارے ساتھ تھے۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اور وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ نے فرمایا وہ مدینہ میں ہیں انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔7 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَا تَصَدَّقَنَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصْدِقَ عَلَى سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَأَتَصَدَّقَنَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدَى زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصْدِقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَلَّ قَنَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِي فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصْدِقَ عَلَى غَنِي فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ وَعَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِي فَأَتِي فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفْ عَنْ سَرِقَتِهِ وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَ عَنْ زِنَاهَا وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ (بخاری کتاب الزكواة باب اذا تصدق على غنى وهو لا يعلم 1421) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے کہا کہ آج میں کچھ صدقہ دوں گا۔وہ اپنا صدقہ لے کر باہر نکلا تو ایک چور کو غریب آدمی سمجھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر وہ رکھ دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ اب تو چور کو بھی صدقہ دیا جانے لگا ہے۔اس شخص کو جب علم ہوا تو اس نے کہا اے میرے اللہ تو ہی حمد کا مالک ہے۔میں ضرور صدقہ دوں گا۔وہ صدقہ لے کر نکلا تو ایک بد کار عورت کو یہ صدقہ دے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات کو بد کار عورت کو صدقہ دیا گیا ہے۔جب اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس نے کہا اے اللہ! تو ہی حمد کا مالک ہے۔مجھ سے ایک زانیہ کو صدقہ دینے میں غلطی ہوئی۔میں ضرور صدقہ دوں گا۔وہ صدقہ لے کر نکلا اور ایک دولت مند کو یہ صدقہ دے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں کہنے لگے اب تو امیر کو صدقہ دیا جانے لگا ہے۔اس پر اس نے کہا۔اے میرے اللہ ! تو ہی حمد کا مالک ہے میں نے