حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 346 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 346

346 اس سے بھی زیادہ دفعہ طلاق دیتا (اور پھر رجوع کر لیتا)۔ایک شخص نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا کہ نہ میں تجھے اس طرح طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے آزاد ہو جائے اور نہ تجھے اپنے گھر بساؤں گا۔عورت نے پوچھا، وہ کس طرح؟ اس نے کہا کہ اس طرح کہ تجھے طلاق دوں گا اور جب تمہاری عدت ختم ہونے لگے گی تو رجوع کرلوں گا اور اسی طرح کرتا رہوں گا۔وہ عورت حضرت عائشہ کے پاس گئی اور اپنے خاوند کی اس زیادتی کا ان کے پاس ذکر کیا۔حضرت عائشہ خاموش رہیں کوئی جواب نہ دیا۔جب آنحضرت صلی الله دلم گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے آپ صلی ٹیم کے پاس اس عورت کی اس مشکل کا ذکر کیا۔آپ صلی علی ایم نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ آئندہ اس طرح دو مرتبہ طلاق دی جاسکتی ہے ( یعنی پہلی طلاق کے بعد مر د عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے اگر رجوع یا نکاح کے بعد اس نے پھر طلاق دے دی تو اسے یہی اختیار حاصل ہو گا یعنی عدت کے اندر رجوع کر سکے گا اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نکاح کر سکے گا اگر اس نے اس دوسرے رجوع یا نکاح کے بعد پھر اس نے طلاق دے دی تو پھر نہ وہ رجوع کر سکے گا اور نہ اس عورت سے نکاح کر سکے گا البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی اور سے شادی کر لے اور دوسر امر دیا ہمی نباہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے اسے طلاق دے دے تو پھر اگر پہلا مرد چاہے تو عورت کو رضامند کر کے اس سے تیسری بار شادی کر لے۔گو ی طلاق اور رجوع کے اختیار کو محدود کر دیا گیا اور اس طرح جاہلیت کے اس برے رواج کو ختم کر کے ظالم خاوند سے عورت کی آزادی کی راہ آسان کر دی) چنانچہ اس قانون کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس ہدایت کی پابندی کرنے لگے اور جن لوگوں نے اس طرح طلاق دی ہوئی تھی وہ اس ظلم و زیادتی سے باز آگئے۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطْلَّقَهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ ، إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا ، حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لَا أَطَلِقُكِ فَتَبِينِي مِنِي، وَلَا آوِيكِ إِلَى قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ أُطلِقُكِ وَكُلَّمَا قاربت