حدیقۃ الصالحین — Page 332
332 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کیلئے نکلا۔حضرت جابر کہتے تھے کہ نبی مسی کی ہم پیچھے سے آکر مجھے مل گئے اور میں اپنے پانی لادنے والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک کر رہ چکا تھا اور وہ چلتا ہی نہ تھا۔تو آپ نے مجھے پو چھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ حضرت جابر کہتے تھے میں نے کہا تھکا ماندہ ہو کر رہ گیا ہے۔کہتے تھے رسول اللہ صلی فیلم پیچھے ہو گئے اور آپ نے اسے ڈانٹا اور اس کیلئے دعا کی۔پھر تو وہ تمام اونٹوں کے آگے ہی رہا۔ان کے آگے ہی آگے چلتا تھا۔آپ نے مجھے سے پوچھا: اب تم اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو ؟ کہتے تھے میں نے کہا اچھا ہے۔آپ کی برکت اس کو نصیب ہوئی ہے۔آپ نے پوچھا: تو پھر کیا تم اس کو میرے پاس بیچتے ہو ؟ کہتے تھے میں نے شرم کی اور ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا۔کہتے تھے میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اچھا میرے ہاتھ فروخت کر دو۔چنانچہ میں نے آپ کو وہ اونٹ قیمتاً دے دیا اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس کی پیٹھ پر سواری کروں گا۔کہتے تھے (جب میں مدینہ کے قریب پہنچا) تو میں نے کہا یار سول اللہ ! میں نے ابھی شادی کی ہے۔یہ کہہ کر میں نے جانے کی اجازت چاہی۔آپ نے مجھے اجازت دی۔میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ کو چل پڑا۔جب مدینہ پہنچا تو میرے ماموں مجھے ملے اور انہوں نے اونٹ کی نسبت مجھ سے دریافت کیا۔تو میں نے انہیں جو فیصلہ اس کے متعلق کر چکا تھا بتایا۔انہوں نے مجھے ملامت کی۔حضرت جابر کہتے ย تھے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی علیم سے گھر جانے کی اجازت لی تھی تو آپ نے مجھے پوچھا کہ تم نے کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔تو آپ نے فرمایا کنواری سے کیوں شادی نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے والد فوت ہو گئے ہیں یا کہا کہ شہید ہو گئے اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں۔میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی عمر کی عورت سے شادی کروں جو نہ ان کو ادب سکھائے نہ ان کی تربیت کرے۔اس لئے بیوہ سے شادی کی ہے کہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے۔کہتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں پہنچے تو میں دوسرے دن صبح وہ اونٹ لے کر آپ کے پاس گیا۔آپ نے مجھے اس کی قیمت دی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس دے دیا۔