حدیقۃ الصالحین — Page 311
311 336- عَن أبى الدَّرْدَاء قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: من فرَّ بِدِينِهِ مِنْ أَرْضِ إِلَى أَرْضِ مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ عَلَى نَفْسِهِ وَدِينِهِ كُتِبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِيْقاً فَإِذَا مَاتَ قَبَضَهُ اللهُ شَبِيداً وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذين آمَنُوا بِالله وَرُسُله أُولَئِكَ هُمُ الصَّدِيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عند ربهم ثُمَّ قَالَ وَهَذِهِ فِيهِمْ ، ثُمَّ قَالَ والفارونَ ۚ بِدِيْنِهِمْ من أَرضِ إِلَى أَرضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَم في درجته فِي الْجَنَّةِ (الدر المنثور في التفسير بالمأثور ، سورة الحديد ( والذین آمنوا بالله و رسله) آیت نمبر 19) مة الله سة حضرت ابو دردا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی یم نے فرمایا جو شخص اپنے دین میں فتنہ کے ڈر سے ( بچاؤ کی خاطر ) ایک ملک سے دوسرے ملک میں بھاگ جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں صدیق ہے اور اگر وہ اس حالت میں فوت ہو جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔پھر آپ صلی علیم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید ہیں“۔پھر آپ صلی میڈم نے فرمایا جو لوگ اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں وہ قیامت کے روز (آخری زمانہ میں ) عیسی بن مریم کے ساتھ ایک ہی درجہ کی جنت میں ہوں گے۔337 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَةَ بْن عَلَى بَعْثٍ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَنَا انْتَهَى إِلَى رَأْسِ غَزَاتِهِ، أَوْ كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْجَيْشِ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ السَّهْمِئَ، فَكُنْتُ فِيمَنْ غَزَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْطَلُوا، أَوْ لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ : أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ ؟ قَالُوا بَلَى، 1: بعض نسخوں میں کتبہ کا لفظ ہے۔2 بعض نسخوں میں والفَرارُون کا لفظ ہے۔