حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 312 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 312

312 قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ ، إِلَّا صَنَعْتُمُوهُ ؟ قَالُوا نَعَمْ، قَالَ فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ، إِلَّا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ أَمْسِكُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا كُنْتُ أَمْرَحُ مَعَكُمْ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلَا تُطِيعُوهُ ابن ماجه کتاب الجهاد باب لا طاعة في معصية الله 2863) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی العلیم نے ایک لشکر پر علقمہ بن مجزز کو سر دار مقرر کیا۔اور میں بھی ان میں تھا جب وہ اپنے غزوہ کے مقام پر پہنچایا ابھی کسی راستے میں تھا تو لشکر کے ایک گروہ نے ان ( عالقمہ) سے اجازت چاہی۔انہوں نے ان کو اجازت دی اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سبھی کو امیر مقرر کیا۔میں بھی ان میں سے تھا جنہوں نے ان کی معیت میں غزوہ کیا۔جب یہ (گروہ) کسی رستے پہ تھا تو اُن لوگوں نے آگ جلائی تا کہ وہ آگ تاپیں یا اس پر کچھ بنائیں۔تو عبد اللہ نے کہا۔اور اس کی مذاق کی عادت تھی۔کیا میر ا تم پر حق نہیں کہ تم سنو اور اطاعت کرو ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔اس نے کہا میں تمہیں جس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے ؟ انہوں نے کہاہاں۔اس نے کہا میں تمہیں یقینی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کو دجاؤ۔کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور (کو دنے کے لئے ) تیار ہو گئے۔جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ تو کو دنے لگے ہیں اس نے کہا اپنے آپ کو روک لو کیونکہ میں تو تم سے صرف مذاق کر رہا تھا۔جب ہم واپس آئے تو لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی صلی الم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا جو تمہیں ان (امراء) میں سے اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو۔338- عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (ترمذی کتاب الديات باب ما جاء فيمن قتل دون ماله فهو شهید 1421)