حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 309 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 309

309 332۔عَنْ سَعْدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَةٌ آمَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ إِلَّا أَرْبَعَةً نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَسَقَاهُمْ وَابْن أبي مرج، فَذَكَرَ الْحَدِيث - قَالَ وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْجِ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى (عَلَيْهِ) فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، هُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِى عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ؟ فَقَالُوا مَا نَدْرِى يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فِي نَفْسِكَ أَلَّا أَوْ مَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ۔قَالَ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِي أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ (ابوداؤد کتاب الجهاد باب قتل الاسير ولا يعرض علیہ الاسلام 2683) حضرت سعد نے بیان کیا کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ صلی ا ہم نے تمام لوگوں کو امن دیا سوائے چار شخصوں اور دو عورتوں کے اور ان کا نام لیا اور ابن ابی سرح کا اور باقی روایت بیان کی۔راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح تو حضرت عثمان بن عفان کے پاس چھپ رہے۔جب رسول اللہ صلی اللی رام نے لوگوں کو بیعت کے لئے الله سة بلایا تو وہ ( حضرت عثمان) اس ( ابن ابی سرح) کو لائے اور رسول اللہ صلی للی نیلم کے سامنے لا کھڑا کیا اور بولے اے اللہ کے نبی !عبد اللہ سے بیعت لے لیجئے۔آپ نے سر اٹھایا اور اس کو تین دفعہ دیکھا، ہر بار اس کے بارہ میں رکھتے تھے۔پھر اس کی بیعت لی تین دفعہ کے بعد۔پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں کوئی ہدایت یافتہ آدمی نہیں تھا؟ اس کی طرف کھڑا ہو کر جاتا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ روک لیا تھا کہ اس کو قتل کرتا۔انہوں نے کہا یارسول اللہ ! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کے دل میں کیا ہے، آپ نے اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ نے فرمایا نبی کے شایان شان نہیں کہ اس کی طرف سے آنکھوں کی خیانت ہو۔