حدیقۃ الصالحین — Page 306
306 فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلا تجيبُوا لَهُ ؟ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ ؟ قَالَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ (بخاری کتاب الجهاد باب ما يكره من التنازع والاختلاف في الحرب (3039) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو مقرر فرمایا اور یہ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا اپنی اس جگہ سے نہ ہٹناخواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔اپنی جگہ پر رہنا، تاوقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے۔تب بھی یہاں سے نہ سر کنا، جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا بھیجوں۔چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔حضرت برا کہتے تھے بخدا میں نے (مشرک) عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے تھیں۔ان کی پاز یہیں اور پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں۔(حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہا لوگو! چلو، نقیمت حاصل کریں۔تمہارے ساتھی غالب ہو گئے۔تم کیا انتظار کر رہے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن جبیر نے کہا کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی ؟ انہوں نے کہا بند ضرور ہم بھی لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت کا مال لیں گے۔جب وہ وہاں پہنچے تو ان کے منہ پھیر دیئے گئے اور شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لوٹے۔یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے ایک سو چالیس آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ستر قیدی اور ستر مقتول۔ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا کیا ان لوگوں میں محمد ہے؟ نبی صلی علیکم نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیالوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے ؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا: یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔یہ سن کر حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے:اے اللہ کے دشمن! بخد اتم نے جھوٹ