حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 304 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 304

304 328- حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِثُ، قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْن جُبَيْرٍ، وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطِفُنَا الطَّيْرُ، فَلَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ۔قَالَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ۔قَالَ فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ - يُسْنِدَنَ عَلَى الْجَبَلِ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ الْغَنِيمَةَ – أَىٰ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ — ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا وَاللهِ لَتَأْتِيَنَ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَ مِنَ الغَنِيمَةِ، فَأَتَوْهُمْ فَصُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ (ابو داؤد کتاب الجهاد باب في الكمناء (2662) حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی علیم نے تیر اندازوں پر اور وہ پچاس تھے حضرت عبد اللہ بن جبیر کو مقرر کیا اور آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک رہے ہیں تب بھی تم اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلا بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے اس قوم کو شکست دیدی اور ان کو روند ڈالا تب بھی تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلا بھیجوں۔راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو شکست دی اور وہ کہتے ہیں کہ بخدا! میں نے عورتوں کو دیکھا وہ پہاڑ پر چڑھ رہی ہیں۔تو حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا لوگو! غنیمت ، تمہارے ساتھی غالب آگئے ، تم کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن جبیر نے کہا کیا تم بھول گئے جو رسول اللہ صلی ال یکم نے تمہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا بخدا! ہم ضرور لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت حاصل کریں گے۔وہ ان کے پاس آئے تو ان کے رخ پھیر دیے گئے اور وہ شکست کھا کر مڑے۔