حدیقۃ الصالحین — Page 298
298 سمِعْتُ جَابِرَ بْن عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا حُفِرَ الخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا ، فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِ، فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَأَخْرَجَتْ إِلَى جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِن فَذَبَحْتُهَا، وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ، فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي، وَقَطَعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ: لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، فَجِنْتُهُ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَّا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا ، فَحَى هَلًا بِكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُلْزِلْنَ يُرْمَتَكُمْ، وَلَا تَلْخَبِزُنَ عَمِينَكُمْ حَتَّى أَجِي فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ ادْعُ خَابِزَةٌ فَلْتَخْبِزُ مَعِي، وَاقْدَحِي مِنْ يُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا وَهُمْ أَلْفُ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ أَكُلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَالْحَرَفُوا ، وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِةُ كَمَا هِيَ ، وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَرُ كَمَا هُوَ (بخاری کتاب المغازى باب غزوة الحندق و هي الاحزاب (4102 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے تھے جب خندق کھو دی گئی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔میں وہاں سے لوٹ کر اپنی بیوی کے پاس آیا۔میں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس ؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔یہ سن کر وہ میرے پاس ایک تھیلالائی جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ تھا۔میں نے اسے ذبح کیا اور بیوی نے جو پیسے۔میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہو گئی۔میں نے گوشت کاٹ کر اُس کی ہانڈی میں ڈال دیا۔پھر رسول اللہ صلی علیکم کی طرف واپس چلا۔وہ کہنے لگی : رسول اللہ صلی علی یکم اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے مجھے