حدیقۃ الصالحین — Page 295
295 320 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُربِ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، قَالُوا نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدُنَا ذَلِكَ، فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ (مسلم کتاب المساجد باب فضل كثرة الخطأ الى المسجد 1060) حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مسجد کی قریبی جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں۔یہ بات رسول اللہ صلی نیز کم کو پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو۔انہوں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ! ہم نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا اے بنی سلمہ ! اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے ) نشان لکھے جائیں گے۔اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جائیں گے۔321ـ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ المَسْجِدِ، فَكَرِةَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ تُعْرَى المَدِينَةُ وَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةٌ أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثاركم فأقاموا (بخاری کتاب فضائل المدينة باب كراهية النبى للعلم ان تعرى المدينة 1887 ) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنی جگہیں چھوڑ کر مدینہ کے قریب آجائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ مدینہ کے کسی طرف جگہ خالی رہے اور فرمایا اے بنی سلمہ ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے۔پھر وہ وہیں ٹھہرے رہے۔