حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 294 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 294

294 وَثَمَانِينَ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ أَوْ طَعْنَةٌ بِرُحٍ، أَوْ رَمْيَةً بِسَهْمٍ وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَقَدْ مَثَلَ بِهِ المشْرِكُونَ، فَمَا عَرَفَهُ أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ قَالَ أَنَسٌ : كُنَّا نُرَى أَوْ نَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ: مِنَ المُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ (بخاری کتاب الجهاد باب قول الله تعالى من المومنين رجال صدوقوا ما عاهدوا 2805) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضر غزوئہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے تو انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں پہلی جنگ میں شریک نہیں ہو سکا جو آپ نے مشرکوں سے کی ہے۔اگر اللہ نے مشرکوں سے جنگ میں مجھے شریک کیا تو پھر اللہ بھی ضرور دیکھ لے گا کہ میں کیا کروں گا۔جب اُحد کی جنگ ہوئی اور مسلمان میدانِ جنگ سے ہٹ گئے تو انہوں نے کہا اے اللہ ! جو میرے ان (مسلمان) ساتھیوں نے کیا ہے میں تیرے حضور اس کی معذرت کرتا ہوں اور جو ان مشرکوں نے کیا ہے میں اس سے تیرے حضور بیزاری کا اظہار کرتاہوں۔یہ کہہ کر وہ (جنگ کیلئے) آگے بڑھے تو حضرت سعد بن معاذ ان کو سامنے سے ملے۔تب (حضرت انس بن نضر نے حضرت سعد بن معاذ سے) کہا اے سعد بن معاذ ! میں تو بہشت میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔نضر کے رب کی قسم ! میں تو اُحد کے پاس اس کی خوشبو پار ہا ہوں۔سعد کہتے تھے یار سول اللہ ! پھر جو کچھ انہوں نے کیا میں نہ کر سکا۔حضرت انس بن مالک ) کہتے تھے ہم نے ان کے بدن پر اسی سے کچھ اوپر نشان دیکھے جو بعض تلوار کے تھے اور بعض برچھی کے زخم تھے اور بعض تیر کے اور ہم نے ان کو دیکھا کہ وہ ایسی حالت میں قتل کئے گئے ہیں کہ مشرکوں نے ان کی ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں سب کاٹ ڈالے۔حتی کہ ان کو کوئی نہ پہچان سکا سوائے ان کی بہن کے جس نے ان کی انگلیاں دیکھ کر پہچانا۔حضرت انس بن مالک ) کہتے تھے ہم سمجھتے تھے یا (کہا) ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس بن نضر یا ان جیسے دوسرے مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی۔یعنی وہ ایسے مرد ہیں کہ جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا تھا اس کو سچا کر دکھایا۔