حدیقۃ الصالحین — Page 293
293 اور مجھے اپنے وعدہ کے مطابق عطا کر۔اے میرے اللہ ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک کر دی گئی تو پھر زمین میں تیری سچی عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا“۔318- عن أبي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِي، قَال: سَمِعْتُ أَبِي، يَحْضُرَةِ العَدُةِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلالِ السُّيُوفِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ رَبُّ الهَيْئَةِ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ؟ قَالَ نَعَمْ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ ، وَكَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ، فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ (ترمذی کتاب فضائل الجهاد باب ما ذكر ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف (1659) ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ایک جنگ کے موقع پر سناوہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں۔ایک شخص نے جو دیکھنے میں پراگندہ حال تھا، ابو موسیٰ سے پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی لیلیوم کو یہ خود فرماتے ہوئے سنا ہے۔اس پر ابو موسیٰ نے کہا ہاں۔یہ سن کر وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا میں تمہیں سلام کہتا ہوں۔پھر تلوار کے میان کو توڑ دیا اور لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔319۔عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ غَابَ عَمَى أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ يَارَسُولَ اللَّهِ غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ المُشْرِكِينَ، لَئِنِ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالَ المُشْرِكِينَ ليَرَينَ اللهُ مَا أَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، وَانْكَشَفَ المُسْلِمُونَ، قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ يما صنع هؤلاء - يَعْنِي أَصْحَابَهُ - وَأَبْرَأَ إِلَيْكَ عما صنع هؤلاء، - يَعْنِي المشركين۔ثم تقدم ، فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْن مُعَادٍ، فَقَالَ يَا سَعْدُ بْن مُعَاذٍ الجَنَّةَ وَرَبِّ النَّضْرِ إِنِّي أَجِدُ رِيحَهَا مِنْ دُونِ أُحُدٍ، قَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا صَنَعَ، قَالَ أَنَسٌ فَوَجَدْنَا بِهِ بِضُعًا