حدیقۃ الصالحین — Page 292
292 م الله سة حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی لیلی کی ایک خیمہ میں قیام پذیر تھے اور بار بار یہ دعا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ ! میں تجھے تیرے عہد کا واسطہ دیتا ہوں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔میرے اللہ ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے تو بے شک ہماری مدد نہ کر۔یعنی اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔حضور علی ای دلم اتنی عاجزی اور زاری کے ساتھ بار بار دعا کر رہے تھے کہ حضرت ابو بکر سے رہا نہ گیا اور گھبر اگر آپ میلی لی و کم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اے اللہ کے رسول کافی ہے اتنی آدوزاری کافی ہے۔اللہ تعالی آپ صلی اینم کی دعا ضرور قبول کرے گا۔حضور اس وقت ذرع پہنے ہوئے تھے چنانچہ حضور اس حالت میں خیمہ سے باہر آئے اور مسلمانوں کو خوش خبری دی کہ دشمن کی یہ جمیعت شکست کھا جائے گی۔ان کے منہ موڑ دیئے جائیں گے بلکہ یہ گھڑی ان کے لئے بڑی دہشت ناک، ہلاکت خیز اور تلخ ہو گی۔317- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الخَطَابِ، قَالَ نَظَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفُ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القِبْلَةَ، ثُمَّ مَنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَنْتِفُ بِرَبِّهِ: اللَّهُمْ أَلْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي (اللَّهُمَّ آتنى ما وَعَدْتَنِي) اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكَ هَذِهِ العِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لَا تُعْبَدُ فِي الأَرْضِ (ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب و من سورة الانفال 3081) حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے بتایا کہ نبی صلی علیم نے مشرکوں کی طرف دیکھا ، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے ساتھی تین سو سے کچھ اوپر تھے۔نبی صلی ال کلم قبلہ رخ ہوئے اور اپنے ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب سے التجا کرنے لگے ”اے میرے اللہ ! جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا اس کو پورا کر