حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 291 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 291

291 اللہ ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔اتنے میں حضرت ابو بکڑ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔انہوں نے کہا یار سول اللہ ! بس کیجئے۔آپ نے اپنے رب سے دعامانگنے میں بہت اصرار کر لیا ہے اور آپ زرہ میں تھے۔آپ خیمے سے نکلے اور آپ یہ پڑھ رہے تھے عنقریب یہ سب کے سب شکست کھا جائیں گے اور پیٹھ پھیر دیں گے اور یہی وہ گھڑی ہے جس سے ڈرائے گئے تھے اور یہ گھڑی نہایت سخت اور نہایت تلخ ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ حَسْبُكَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ سَيُهْزَهُ الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ النُّبُرَ (بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى اذ تستغيثون ربكم فاستجاب۔۔۔3953) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علیکم نے بدر کی لڑائی کے دن اللہ تعالیٰ سے) دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تیر ا عہد اور وعدہ پورا کرنے کی التجا کر تا ہوں۔اے اللہ ! اگر تیری یہی منشاء ہے کہ تیری عبادت نہ کی جائے۔اس پر حضرت ابو بکر نے آپ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا بس کیجئے (جو دعا آپ کر چکے ہیں وہی کافی ہے۔) پھر آپ (خیمے سے) باہر نکلے اور یہ فرما رہے تھے عنقریب یہ جمعیت شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر لیں گے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدُ بَعْدَ اليَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ، وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ ودرو سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَيُوَلُونَ الدُّبُر (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب قوله سيهزم الجمع ویولون الدبر (القمر (45) 4875)