حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 279 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 279

279 كَانَ صَادِقًا، وَاللهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقَّهِ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءُ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَبْعَرُ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُبِّي بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُم ، هَلْ بَلْغَتُ؟ (مسلم کتاب الامارۃ باب تحریم ہدایا العمال 3400)۔حضرت ابو محمد الساعدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے از د قبیلہ کے ایک شخص کو جوابنُ الأتبيَّةِ کہلاتا تھا بنو سلیم کے صدقات کے لئے عامل بنایا۔جب وہ آیا تو آپ نے اس سے حساب لیا۔اس نے کہا یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ تحفہ ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔اگر تم درست کہہ رہے ہو تو تمہارے پاس تحفہ آتا۔پھر آپ نے ہم سے خطاب فرمایا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا انا بعد میں تم میں سے کسی شخص کو ان کاموں پر جن پر اللہ نے مجھے والی بنایا ہے مقرر کرتا ہوں وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔وہ کیوں اپنے باپ اور ماں کے گھر نہیں بیٹھا کہ اگر وہ درست بات کرتا ہے تو اس کے پاس تحفہ آتا۔بخدا تم میں سے کوئی شخص اس میں سے اپنے حق کے علاوہ کوئی چیز نہیں لیتا مگر وہ قیامت کے دن اسے اُٹھائے ہوئے اللہ کو ملے گا۔میں ضرور تم میں سے اسے پہچان لوں گا کہ جو بلبلاتا ہوا اونٹ یاڈ کراتی ہوئی گائے یا منمناتی ہوئی بکری اُٹھائے ہوئے ملے گا۔پھر آپ نے دونوں بازو اٹھائے یہانتک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی۔پھر آپ نے کہا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا۔